منگل 3 فروری 2026 - 16:59
ولادتِ امامِ زمانہ علیہ السّلام!

حوزہ/یہ وہ زمانہ ہے جس میں انسان نے بولنا تو سیکھ لیا ہے، مگر سننا بھول گیا ہے۔ ہر طرف آوازیں ہیں—بیانات، دعوے، نعرے—مگر خاموشی میں چھپی سچائی نایاب ہو چکی ہے۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| یہ وہ زمانہ ہے جس میں انسان نے بولنا تو سیکھ لیا ہے، مگر سننا بھول گیا ہے۔ ہر طرف آوازیں ہیں—بیانات، دعوے، نعرے—مگر خاموشی میں چھپی سچائی نایاب ہو چکی ہے۔

یہ وہ عہد ہے جس میں آئین لکھے جاتے ہیں، مگر ضمیر مٹ جاتے ہیں؛ قانون بنتے ہیں، مگر انصاف یتیم رہتا ہے اور روشنی ایجاد ہوتی ہے، مگر اندھیرا زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔

ایسے وقت میں اگر تاریخ کے افق پر کوئی نرم مگر مستقل اجالا نمودار ہوتا ہے تو وہ 15 شعبان کی رات ہے—وہ رات جب زمین نے آسمان کی امانت کو تھاما، اور منجی عالم بشریت، قطب عالم امکان، لنگر زمین و زمان حضرت صاحب الزمان امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کی ولادت کے ساتھ انسانیت نے ایک بار پھر سانس لی۔

بے شک آج کا انسان تھکا ہوا ہے طاقت کی دوڑ سے، معلومات کے بوجھ سے اور خوف کے مستقل سائے سے۔ ریاستیں بڑی ہو گئیں، انسان چھوٹا ہو گیا، معیشت مضبوط ہو گئی، اخلاق کمزور ہو گئے، سچ بولنا مشکل نہیں رہا، مہنگا ہو گیا ہے۔

یہی وہ لمحہ ہے جہاں زمانہ خود سے سوال کرتا ہے: کیا یہ وہی دنیا ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا؟ کیا ترقی کا مطلب یہی تھا کہ انسان، انسان کے لئے غیر ضروری ہو جائے؟

اسی سوال کے جواب میں تاریخ کی گہرائیوں سے ایک صدا ابھرتی ہے امامِ وقت زندہ ہیں۔

امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی ولادت کسی شاہی محل میں نہیں ہوئی، کیونکہ خدا کو تخت نہیں، عدل عزیز ہے۔ یہ ولادت اگرچہ خفیہ تھی، مگر اس کا پیغام علانیہ—

کہ سچ کو حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے، نمائش کی نہیں۔

یہ ولادت ہمیں بتاتی ہے کہ جب اقتدار خوف میں مبتلا ہو جائے، تب خدا امید کو جنم دیتا ہے۔ یہ ایک بچے کی پیدائش نہیں تھی، یہ ظلم کے خلاف مستقبل کی پیدائش تھی۔

اس عصر غیبت نے زمانے کے چہرے سے نقاب ہٹا دی۔ لوگ کہتے ہیں کہ امام نظر نہیں آتے۔ مگر سچ یہ ہے کہ غیبت نے ہمیں خود کو دکھا دیا ہے۔ یہ غیبت ایک آئینہ ہے۔

اس زمانہ غیبت نے پوچھ لیا کہ کیا تم سچ کو تب بھی مانتے ہو جب وہ مقبول نہ ہو؟ کیا تم عدل کو تب بھی تھامتے ہو جب وہ نقصان دہ لگے؟

دور حاضر میں غیبت نے سکھایا کہ ہدایت ہمیشہ اسٹیج پر نہیں آتی، کبھی کبھی وہ دل کے اندر اترتی ہے۔ یہ عالمِ انتظار وقت گزاری نہیں، وقت سازی ہے۔

انتظار کو صبر کے نام پر غلط فہمی بنا دیا گیا ہے۔ حالانکہ انتظار وہ حرارت ہے جو انسان کو روشن کرتی ہے۔

منتظر وہ نہیں جو ہاتھ باندھے بیٹھا رہے، منتظر وہ ہے جو ناانصافی کو معمول نہ بننے دے، جھوٹ کو حکمت نہ سمجھے اور خاموشی کو مجبوری نہ مانے۔

عصرِ حاضر میں انتظار کا مطلب ہے اندھیرے سے سمجھوتہ نہ کرنا۔ ظلم کی تائید نہ کرنا، بے دینی کو بڑھاوا نہ دینا، اپنے پیٹ کو نجس اور حرام سے نہ بھرنا۔۔۔۔۔۔

موجودہ دور میں انسان ٹوٹا ہوا ہے شناخت کے بوجھ سے، مقابلے کی دوڑ سے اور مستقل غیر یقینی سے۔

مہدوی فکر اس ٹوٹے ہوئے انسان کے لئے مرہم ہے۔ یہ اسے یاد دلاتی ہے کہ وہ صرف صارف نہیں، انسان ہے، وہ صرف ووٹر نہیں، ضمیر ہے اور وہ صرف حال نہیں، مستقبل کی ذمہ داری ہے۔

یہ فکر بتاتی ہے کہ نجات کسی ایک طبقے کے لئے نہیں، بلکہ ہر اس دل کے لئے ہے جو عدل کے نام پر دھڑکتا ہے۔

جب کہیں کسی بچے کا خواب ملبے تلے دب جاتا ہے، جب کسی ماں کی دعا سرحد پر رک جاتی ہے، جب کسی مظلوم کا مقدمہ طاقت کے شور میں گم ہو جاتا ہے تب 15 شعبان کی رات، وقت کے سینے پر ایک دھڑکن سنائی دیتی ہے۔

یہ دھڑکن کہتی ہے کہ انصاف مرا نہیں۔ یہ ولادت ہمیں یقین دلاتی ہے کہ دنیا اگرچہ بے رحم ہو گئی ہے، مگر خدا بے خبر نہیں ہے۔

البتہ یاد رہے کہ جشن ولادت صرف چراغاں نہیں ہے، اگر صرف چراغاں ہے تو یہ آنکھوں کو تو روشن کرے گا، دل کو نہیں۔

اگر جشن صرف نعرہ ہے تو یہ لمحہ بھر گونجے گا، باقی نہیں رہے گا۔

حقیقی جشن وہ ہے جو انسان کو نرم اور اصول کو سخت بنائے، خوف کے بجائے شعور پیدا کرے اور عقیدت کو کردار میں ڈھال دے۔ آج سب سے بڑا جشن یہ ہے کہ ہم جھوٹ کے زمانے میں سچ کا انتخاب کریں۔

امام مہدی علیہ السلام آئیں گے۔ یہ یقین ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس دن کے قابل ہوں گے؟ وہ دنیا کو بدلیں گے، مگر وہ ان لوگوں کے ذریعہ بدلیں گے جنہوں نے اپنے اندر کی دنیا پہلے بدل لی ہو۔

ہر چھوٹا انصاف، ہر سچا فیصلہ، ہر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا۔ یہ سب ظہور کی طرف بڑھتے قدم ہیں۔

ولادتِ امامِ زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ اندھیرا کب ختم ہوگا، یہ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اندھیرے میں ہمیں کیا بننا ہے۔اگر زمانہ تاریک ہے، تو ہمیں چراغ بننا ہے۔ اگر سچ کمزور ہے، تو ہمیں اس کا سہارا بننا ہے۔

اور اگر عدل اکیلا ہے تو ہمیں اس کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، کیونکہ جب چراغ خود جلنے پر آمادہ ہوں، تو سورج کے طلوع میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔

اَللّٰهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِيِّكَ الْفَرَج، وَاجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يَحْمِلُونَ نُورَ الْعَدْلِ فِي زَمَنِ الظُّلْمَة

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha